فن آفرینی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہُنر مندی، فنی خوبی۔ "وہی جذب و گداز وہی فن آفرینی وہی جمالیاتی پرکھ اور کسوٹی ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، ستمبر، ٣٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'فن' کے بعد فارسی مصدر 'آفریدن' سے مشتق لاحقہ کیفیت 'آفرینی' لانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩٨٦ء کو "نگار، کراچی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہُنر مندی، فنی خوبی۔ "وہی جذب و گداز وہی فن آفرینی وہی جمالیاتی پرکھ اور کسوٹی ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، ستمبر، ٣٣ )

جنس: مؤنث